تو مرے سامنے ہنستا بھی ہے روتا بھی ہے
Umair Ali Anjum (b. 1987)تو مرے سامنے ہنستا بھی ہے روتا بھی ہے
کیا ترے دل میں کوئی میرے علاوہ بھی ہے
میرا دل تخت سلیمان بھی ہے میرے لیے
بعض لوگوں کے لیے ایک کھلونا بھی ہے
ترک الفت سے بھی بنجر نہ ہوئی دل کی زمیں
ہجر تیرا مری آنکھوں سے چھلکتا بھی ہے
میں نے بخشا تھا تجھے زعم حسیں ہونے کا
تھوڑا سا حق تو ترے حسن پہ میرا بھی ہے
ہجر اور وصل کے دوراہے پہ موجود ہوں میں
پوچھنا یہ تھا کوئی تیسرا رستہ بھی ہے
روز کچھ پھول دریچے میں دھرے ملتے ہیں
کیا عمیرؔ اپنا کوئی چاہنے والا بھی ہے