گیسوئے ہوش و متانت کو بکھرنے نہ دیا
Tabish Raihan (b. 1986)گیسوئے ہوش و متانت کو بکھرنے نہ دیا
میں نے چاہت کو کبھی حد سے گزرنے نہ دیا
در بہ در مجھ کو لئے پھرتی رہی فکر معاش
دو گھڑی چین سے اک در پہ ٹھہرنے نہ دیا
بس اسی ڈر سے کہ حرف آئے نہ تجھ پر ہم نے
تیری تصویر کو آنکھوں میں ابھرنے نہ دیا
خود کبھی تم نے بھلائی کا کیا کام نہ کچھ
اس پہ یہ ظلم کہ اوروں کو بھی کرنے نہ دیا
راہ میں کتنے ہی خوش رنگ نظارے تھے مگر
مجھ کو منزل کی تمنا نے ٹھہرنے نہ دیا
زندہ رکھا ہے ہر اک دور میں بے شک تابشؔ
ایک فنکار کو فن نے کبھی مرنے نہ دیا