Poetry
Poet
Meter
- تمہارے کام اگر آئے مسکرانے میںتو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے میںYasir Khan Inam (b. 1986)
- جن کو معلوم نہیں ہوگا دعا کا مطلبوہ ہمیں خاک بتائیں گے خدا کا مطلبYasir Khan Inam (b. 1986)
- دنیا اگر جلائے گی تو کیا جلوں گا میںہاں تم جلا رہے ہو تو اچھا جلوں گا میںYasir Khan Inam (b. 1986)
- زمیں بنائی گئی آسماں بنایا گیابرائے عشق یہ سارا جہاں بنایا گیاYasir Khan Inam (b. 1986)
- سب کو ہی اس در پر تالا دکھتا تھامجھ کو کوئی دوڑ کے آتا دکھتا تھاYasir Khan Inam (b. 1986)
- عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہےیار تم کیا ہو کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہےYasir Khan Inam (b. 1986)
- کسی نے حال جو پوچھا کبھی محبت سےلپٹ کے رویا بہت دیر اس سے شدت سےYasir Khan Inam (b. 1986)
- کون اب جائے ترے پاس شکایت لے کرروز آتے ہیں ترے خواب محبت لے کرYasir Khan Inam (b. 1986)
- مجھے وہ غم ہے کہ ساری زمین رونے لگےجو اشک پونچھ دوں تو آستین رونے لگےYasir Khan Inam (b. 1986)
- مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تھاکوئی کل رات مجھ میں مر گیا تھاYasir Khan Inam (b. 1986)
- ہم نے کب چاہا کہ وہ شخص ہمارا ہو جائےاتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارہ ہو جائےYasir Khan Inam (b. 1986)
- ہوں آنکھیں ایک خواب پہ قربان کرکے خوشاور جسم نذر آتش وجدان کرکے خوشYasir Khan Inam (b. 1986)
- یوں ترے شہر سے ہم یار چلے آتے ہیںجیسے کعبے سے گنہ گار چلے آتے ہیںYasir Khan Inam (b. 1986)
- جس میں وہ اپنے ہونے نہ ہونے کا احساس بھیگو کسی شکل میں ہو کراتی رہےYasir Khan Inam (b. 1986)
- اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گامیں گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گاUmair Najmi (b. 1986)
- ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملےجیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملےUmair Najmi (b. 1986)
- بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیںلگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیںUmair Najmi (b. 1986)
- بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہےبچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہےUmair Najmi (b. 1986)
- تم اس خرابے میں چار چھ دن ٹہل گئی ہوسو عین ممکن ہے دل کی حالت بدل گئی ہوUmair Najmi (b. 1986)
- جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گایہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات میرے گریہ سے کم بنے گاUmair Najmi (b. 1986)
- دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکااس لئے خول سے شمشیر نہیں کھینچ سکاUmair Najmi (b. 1986)
- کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گےآنکھ میں خواب تہہ آب اکٹھے ہوں گےUmair Najmi (b. 1986)
- کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑےسیڑھیاں آتی رہیں سانپ کا خانہ نہ پڑےUmair Najmi (b. 1986)
- مجھے پہلے تو لگتا تھا کہ ذاتی مسئلہ ہےمیں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ ہےUmair Najmi (b. 1986)
- میں برش چھوڑ چکا آخری تصویر کے بعدمجھ سے کچھ بن نہیں پایا تری تصویر کے بعدUmair Najmi (b. 1986)
- ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگنصاب عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگUmair Najmi (b. 1986)
- کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہےپر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھUmair Najmi (b. 1986)
- کسی گلی میں کرائے پہ گھر لیا اس نےپھر اس گلی میں گھروں کے کرائے بڑھنے لگےUmair Najmi (b. 1986)
- یہ سات اٹھ پڑوسی کہاں سے آئے مرےتمھارے دل میں تو کوئی نہ تھا سوائے مرےUmair Najmi (b. 1986)
- بھلا یہ کون ہے میرے ہی اندر مجھ سے رنجش میںوہ مجھ کو ہی گنوا بیٹھا نہ جانے کس کی خواہش میںDarshika wasani (b. 1986)
- پورا چاندپورا چاند نہیں دیا تم نے مجھےDarshika wasani (b. 1986)
- تمہاری آنکھیں تم وہیں تو بستے ہوایک جسم کو دنیا نے تمہارا نام دیاDarshika wasani (b. 1986)
- جا رہی ہوں میںکر رہی ہوں تمہارا گھر تمہارے حوالےDarshika wasani (b. 1986)
- چلو آج ایک اور کوشش ہوگیپھر ایک شام ڈوب جائے گی شراب میںDarshika wasani (b. 1986)
- درد گر بے حد ہوا تو حوصلے بڑھ جائیں گےتم زخم کریدو گے ہم اور نکھر جائیں گےDarshika wasani (b. 1986)
- شریر میں کوئی تڑپ سی ہوگییا کوئی عادت سی پڑی ہوگیDarshika wasani (b. 1986)
- عمر اور راستے کٹتے چلے گئےابھی ابھی سانسیں سنبھلی تھیDarshika wasani (b. 1986)
- اس خاموش قلعے کیسخت لوہے سی دیواریںDarshika wasani (b. 1986)
- کچھ دنوں سے میں جب بھیآئینے میں اپنی ہلکی سفید لٹیں دیکھتی ہوںDarshika wasani (b. 1986)
- آنکھیں بجھ جائیں گی شعلہ رہ جائے گایعنی جو دیکھا تھا دیکھا رہ جائے گاFaizan Hashmi (b. 1986)
- اپنے خلا میں لا کہ یہ تم کو دکھا رہا ہوں میںوہ جو خلا نورد ہیں ان کے لیے خلا ہوں میںFaizan Hashmi (b. 1986)
- اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کیخبر ملی تھی مجھے خواب میں خزانے کیFaizan Hashmi (b. 1986)
- بس یہی سوچ کے رہتا ہوں میں زندہ اس میںیہ محبت ہے کوئی مر نہیں سکتا اس میںFaizan Hashmi (b. 1986)
- بہت سا کام تو پہلے ہی کر لیا میں نےجہاں جہاں مجھے ڈرنا تھا ڈر لیا میں نےFaizan Hashmi (b. 1986)
- دونوں جہاں سے آ گیا کر کے ادھر ادھر کی سیرپوچھو نہ جا رہا ہوں میں کرنے کو اب کدھر کی سیرFaizan Hashmi (b. 1986)
- سامنے ہوتے تھے پہلے جس قدر ہوتے تھے ہمجب یہ نظارے نہیں تھے تب نظر ہوتے تھے ہمFaizan Hashmi (b. 1986)
- مرے وجود کو موجودگی دکھاتی تھیدیے کی لو مجھے دیوار کا بتاتی تھیFaizan Hashmi (b. 1986)
- ملا رہا ہوں ترا حسن کائنات کے ساتھفیزکس کھول کے بیٹھا ہوں دینیات کے ساتھFaizan Hashmi (b. 1986)
- میں اپنی خوشیاں اکیلے منایا کرتا ہوںیہی وہ غم ہے جو تجھ سے چھپا ہوا ہے مراFaizan Hashmi (b. 1986)
- آج کا جو کام تھا کل پر اٹھا کر رکھ دیامیں نے یوں ہر قیمتی موقع گنوا کر رکھ دیاTabish Raihan (b. 1986)