اللہ بشر جاہ و حشم بیچ رہے ہیں

Faizan Asad (b. 1986)

اللہ بشر جاہ و حشم بیچ رہے ہیں

خود ساختہ پتھر کے صنم بیچ رہے ہیں

مغرب کی تعفن زدہ تہذیب کے بدلے

ہم ارض مقدس کا حرم بیچ رہے ہیں

بے باک صداقت سے جو منسوب رہا ہے

دل روتا ہے کیوں لوگ قلم بیچ رہے ہیں

حیران ہوں میں سختیٔ جاں دیکھ کے ان کی

کس دل سے وہ روداد ستم بیچ رہے ہیں

پیشہ ہے کسی کا تو کوئی بھوک سے مجبور

بازار عدالت میں قسم بیچ رہے ہیں

ہجرت ہوئی اذہان پہ کچھ ایسے مسلط

وہ گھر تھا جو اک باغ ارم بیچ رہے ہیں

اسعدؔ یہاں مذہب ہے منافع کی تجارت

ہر موڑ پہ اب لوگ دھرم بیچ رہے ہیں