زخم ہجراں کی مداوات سے پہلے پہلے

Faizan Asad (b. 1986)

زخم ہجراں کی مداوات سے پہلے پہلے

درد رقصاں ہے ملاقات سے پہلے پہلے

قید زنداں ہو یا ہو فیصلہ سرکوبی کا

لازمہ سوچئے حق بات سے پہلے پہلے

کاش وہ آج پلٹ آئے کسی بھی صورت

چاندنی رات کی برسات سے پہلے پہلے

راہ سے بھٹکی نئی نسل بچانی ہے ہمیں

ممکنہ آمد آفات سے پہلے پہلے

کیسے محفوظ رکھا جائے گا طوفاں میں شجر

کوئی تدبیر ہو ثمرات سے پہلے پہلے

سوچئے قوم کو بھرپائی نہ کرنی پڑ جائے

وقت بے وقت کے جذبات سے پہلے پہلے

در نہیں لازمی بنیاد کی مضبوطی ہے

آنے والے برے حالات سے پہلے پہلے

لوگ خوش ہوں کہ نہ ہوں رب تو ہو راضی اسعدؔ

زیست کے آخری لمحات سے پہلے پہلے