کیسے جی پاؤں گا جدا ہو کر

Faizan Asad (b. 1986)

کیسے جی پاؤں گا جدا ہو کر

جا رہا ہے کوئی خفا ہو کر

ڈھونڈھتا پھر رہا ہے مجھ سا تو

کیا ملا تجھ کو بے وفا ہو کر

بھٹکے لوگوں کو مل گئی منزل

میں بچھا جب سے راستہ ہو کر

گھر گیا یاد سے بچھڑتے ہی

قید میں ہو گیا رہا ہو کر

پتھروں پر یہ کیا اثر کرتی

لوٹ آئی مری صدا ہو کر

سایۂ دیں کا یہ صلہ دیکھو

مل گیا ہے سکوں فنا ہو کر

ہم سفر جب سے تو ہوا اسعدؔ

عشق ابھرا ہے خوش نما ہو کر