مرے ہم سخن مرے ہم نوا تری خیر ہو
Umair Ali Anjum (b. 1987)مرے ہم سخن مرے ہم نوا تری خیر ہو
تو وصال رت میں جدا ہوا تری خیر ہو
مرے درد تیری عطا سہی میں خفا سہی
ترے حق میں کرتا ہوں میں دعا تری خیر ہو
تجھے سارے شہر کو چھوڑ کر تھا چنا کبھی
تو ہی ہاتھ ہم سے چھڑا گیا تری خیر ہو
کوئی تجھ سے شکوہ گلہ کروں نہ ملا کروں
مرا ظرف ہی نہیں مانتا تری خیر ہو
وہ تو کر رہا تھا جدائیوں کی وضاحتیں
مرا صرف ایک جواب تھا تری خیر ہو
نہ نظر نظر میں تو دے صدا مجھے بھول جا
نہیں مجھ میں اب نہیں حوصلہ تری خیر ہو
یہ ندامتیں نہ دکھا مجھے نہ ستا مجھے
جا تجھے فقیر نے کہہ دیا تری خیر ہو