چھوٹی سی بات پر ترا لہجہ بدل گیا

Umair Ali Anjum (b. 1987)

چھوٹی سی بات پر ترا لہجہ بدل گیا

تو دیکھتے ہی دیکھتے کیسا بدل گیا

کیوں اختلاف رائے نے تہذیب چھین لی

یہ کیا کہ گفتگو کا قرینہ بدل گیا

کھنڈرات میں بدل گیا ہر راستہ یہاں

اور کاغذوں میں شہر کا نقشہ بدل گیا

کتنی سہولتیں ہمیں حاصل تھیں قید میں

تھوڑا سا پھڑپھڑائے تو پنجرہ بدل گیا

جب میں کسی کے ساتھ ہوا اس کے روبرو

مجھ سے تو آئنے کا رویہ بدل گیا

پہلے سا آج کچھ بھی نہیں ہے عمیرؔ میں

اب آئے ہو کہ جب مرا حلیہ بدل گیا