اپنی بستی میں اندھیرا نہیں ہونے دیں گے
Umair Ali Anjum (b. 1987)اپنی بستی میں اندھیرا نہیں ہونے دیں گے
جیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے دیں گے
سب کراچی کو اجالوں کا نگر کہتے ہیں
اس کو آثار قدیمہ نہیں ہونے دیں گے
حق جو بنتا ہے مہاجر کا وہ لیں گے تم سے
اپنی ہم قوم سے دھوکا نہیں ہونے دیں گے
ہم نہ ہوتے تو وطن بیچ کے کھا جاتے تم
ہم کسی طور یہ سودا نہیں ہونے دیں گے