سنا تو ہوگا ہی سرکار جھوٹ بولتے ہیں
Faizan Asad (b. 1986)سنا تو ہوگا ہی سرکار جھوٹ بولتے ہیں
نہاں نہیں سر بازار جھوٹ بولتے ہیں
عدالتیں ہوں کہ منصف ہو یا گواہ کوئی
ہمارے حق میں یہ ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
ہمارے شہر میں بھوکا نہ مل سکے گا کوئی
یہ مال و زر کے پرستار جھوٹ بولتے ہیں
میں لا کے چاند بھی دے دوں جو تم کہو جاناں
قسم سے عشق کے بیمار جھوٹ بولتے ہیں
ہمارا عہد بھرے گا ترقیوں کی اڑان
سیاسی لوگ ہیں عیار جھوٹ بولتے ہیں
محبتوں کی روایت کے پاسبان ہیں ہم
زبان کاٹ دو اخبار جھوٹ بولتے ہیں
یقین کیسے کریں واعظوں پہ اے اسعدؔ
پہن کے جبہ و دستار جھوٹ بولتے ہیں