زندگی بھر دوڑتا ہے بیٹھ جا

Faizan Asad (b. 1986)

زندگی بھر دوڑتا ہے بیٹھ جا

غم کہاں کب بولتا ہے بیٹھ جا

پہلی بارش دیکھ کر برسات کی

جانے کیا تو سوچتا ہے بیٹھ جا

اس قدر لے کر چلا بار حیات

راستہ ہی بولتا ہے بیٹھ جا

پاؤں کھینچا ہے ترا احباب نے

کیوں سہارا ڈھونڈھتا ہے بیٹھ جا

طشت میں لاشیں سجی ہیں خون ہے

یہ سیاسی ناشتہ ہے بیٹھ جا

جھوٹ کی دنیا میں سب الجھے ہیں تو

بات سچی بولتا ہے بیٹھ جا

اک دیے نے جل کے طوفاں سے کہا

مجھ سے ڈر کر کانپتا ہے بیٹھ جا

ننھے بچے کو تلاوت سے نہ روک

کان میں رس گھولتا ہے بیٹھ جا

دیکھ اسعدؔ اجنبی اک شخص سے

رشتۂ جاں جوڑتا ہے بیٹھ جا