یہاں تو پون صدی سے یہی کہانی ہے

Umair Ali Anjum (b. 1987)

یہاں تو پون صدی سے یہی کہانی ہے

اصول مر گئے طاقت کی حکمرانی ہے

جو ان کی بات نہ مانے مٹا دیا جائے

حکومتوں کی یہ عادت بہت پرانی ہے

کسی یزید کی بیعت جو میں نہیں کرتا

مری انا مرے اجداد کی نشانی ہے

بھرے ہوئے ہیں ہمارے بدن بغاوت سے

رگوں میں اپنے میاں خون ہے نہ پانی ہے

ہے معجزہ کہ لٹیرے ہیں چار سو پھر بھی

ہمارا شہر محبت کی راجدھانی ہے

نہیں ہے عقل سے اپنی مخالفت لیکن

عمیرؔ ہم نے ہمیشہ سے دل کی مانی ہے