گردش وقت کا منظر نہیں دیکھا جاتا
Umair Ali Anjum (b. 1987)گردش وقت کا منظر نہیں دیکھا جاتا
یار کے ہاتھ میں خنجر نہیں دیکھا جاتا
کوئی رخصت کرے اور آنکھ میں آنسو بھی نہ ہوں
ایسے لمحات میں مڑ کر نہیں دیکھا جاتا
یہ روایت مرے پرکھوں سے چلی آئی ہے
عشق میں یار کو چھو کر نہیں دیکھا جاتا
اے خدا شہر کے حاکم کو ہدایت دے دے
چار سو عرصۂ محشر نہیں دیکھا جاتا
ہم کہ دم توڑتی قدروں کے امیں ہیں ہم سے
بنت حوا کا کھلا سر نہیں دیکھا جاتا
ہائے اس حسن بلا خیز کی تاثیر عمیرؔ
دیر تک اس کو برابر نہیں دیکھا جاتا