یہ کمرہ کیوں پراگندہ پڑا ہے

Faizan Asad (b. 1986)

یہ کمرہ کیوں پراگندہ پڑا ہے

مکیں پر کون سا دورہ پڑا ہے

دکھائی کیوں نہیں دیتی صداقت

یہ کیسا آنکھ پر پردہ پڑا ہے

نسب سے کچھ نہیں ہوتا ہے پیارے

سبھی کے پاس اک شجرہ پڑا ہے

گیا ہے چھوڑ کر کوئی اداسی

پس آئینہ اک چہرہ پڑا ہے

محبت ہو گئی ہے بے ارادہ

گلے یوں جان کا خطرہ پڑا ہے

بنا ہے جس کے ہاتھوں سے سمندر

تن تنہا وہی قطرہ پڑا ہے

مسیحا کہہ رہی تھی جس کو دنیا

وہ دیکھو آج خود مردہ پڑا ہے

خدایا رحم اسعدؔ کی خطا پر

ترے در پر کئے سجدہ پڑا ہے