مری حیات کو یوں پائمال اس نے کیا
Umair Ali Anjum (b. 1987)مری حیات کو یوں پائمال اس نے کیا
کہ میرا درد سے رشتہ بحال اس نے کیا
وہ بے وفائی کو کار کمال کہتا تھا
پھر ایک روز یہ کار کمال اس نے کیا
شکار ہجر مجھے کر گیا وہ اک پل میں
کہ میری زیست کے پل پل کو سال اس نے کیا
جواب کوئی بھی جب بن نہیں سکا اس سے
مرے سوال پہ الٹا سوال اس نے کیا
چھری کو تیز بہت تیز کر کے لایا وہ
عجیب ڈھنگ سے میرا خیال اس نے کیا
عمیرؔ اس سے فراوانیاں جو مانگیں تو
جدائیوں سے مجھے مالا مال اس نے کیا