ہم نے یوں خود سے ترا ذکر کیا شام کے بعد

Umair Ali Anjum (b. 1987)

ہم نے یوں خود سے ترا ذکر کیا شام کے بعد

جیسے گلشن میں چلے سرد ہوا شام کے باد

مجھ کو مے خوار سمجھتی رہی شب بھر دنیا

جب ترے ہجر کا مشروب پیا شام کے بعد

جس کی یادوں کو بھلانے میں گزر جاتا ہے دن

لب پہ آ جاتا ہے وہ مثل دعا شام کے بعد

اشک آنکھوں میں لئے روز تجھے ڈھونڈھتا ہے

تیرے کوچے میں کوئی آبلہ پا شام کے بعد

دل کی وحشت کے یہ موسم بھی نرالے ہیں عمیرؔ

بند کمرے میں برستی ہے گھٹا شام کے بعد