ترے ہجر نے جو ستم کیا کوئی دیکھتا
Umair Ali Anjum (b. 1987)ترے ہجر نے جو ستم کیا کوئی دیکھتا
مری وحشتیں مرا رتجگا کوئی دیکھتا
کسی ادھ کھلے سے کواڑ میں بڑے شوق سے
کبھی صبح دم کوئی جھانکتا کوئی دیکھتا
کسی دوسرے کا وہ ہو گیا میں کھڑا رہا
مری بے بسی مرا حوصلہ کوئی دیکھتا
کوئی پالکی تو گزر گئی تھی عمیرؔ جی
مگر اس گھڑی مرا دیکھنا کوئی دیکھتا