Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- گزر نہیں ہے کسی کا تو راستہ کیوں ہےجو راستہ ہے تو محروم نقش پا کیوں ہےDaud Naseeb
- کئے ہیں مجھ پہ جو احساں جتا نہیں سکتاوہ شخص تو مرا دل بھی دکھا نہیں سکتاEjaz Asif
- نوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہومثال صوت پریشاں فغاں سے ظاہر ہوEjaz Asif
- ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوںمیں اپنی خاک میں پنہاں تجھے بھی گر دیکھوںEjaz Asif
- زمیں کے جسم کو ٹکڑوں میں بانٹنے والوکبھی یہ غور کرو کائنات کس کی ہےIbrat Machlishahri
- وہ یوں ثبوت عروج و زوال دیتا تھااٹھا کے ہاتھ میں پتھر اچھال دیتا تھاIbrat Machlishahri
- رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گایگانہ کام نہ بیگانہ کام آئے گاLaxmi Narayan Farigh
- مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیںیہ فتنہ میری لحد پر جگائے جاتے ہیںLaxmi Narayan Farigh
- نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہےشکست خوردوں کی ہمت بڑھائی جاتی ہےLaxmi Narayan Farigh
- خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیاہر ایک ریشۂ گل رنگ بار کس نے کیاLubna Safdar
- خیال نطق سے بیگانہ ہو تو کیا کہئےلب خموش ہی افسانہ ہو تو کیا کہئےمحمد صادق ضیا
- عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیاعدن سے نکلے ہوئے سانپ کو پٹاری کیاNadeem Ajmal Adeem
- بجھا بجھا سا گل تر دکھائی دیتا ہےعجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہےParvez Anjum
- تری جفاؤں کا لب لباب لکھا ہےجو میرے چہرے پہ دل نے حساب لکھا ہےParvez Anjum
- حسین تاج کی صورت یہ بے صدا پتھردکھا رہے ہیں محبت کا معجزہ پتھرSabiha Sumbul
- یہ مانا تم ہو زمانے کے با کمالوں میںتو ہم بھی خود کو سمجھتے ہیں بے مثالوں میںSabiha Sumbul
- گرج رہا ہے سیہ مست پیل پیکر ابراداس کوہ کی چوٹی پہ ایک تنہا پیڑتصدق حسین خالد
- فضا میں شور تلاطم ہو رنگ و بو بھی ہوزمین شہر ستم گر لہو لہو بھی ہوYaqoob Saqi
- ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتاکہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتاعزیز الحسن غوری
- تمہارے بعد تمہارا خیال آیا ہےمیں لا جواب ہوں کیسا سوال آیا ہےEhsaan Sabz
- شب وصال ہنسی آتی ہے مقدر پروہ ہم سے روٹھ کے سونے چلے ہیں بستر پرجگر بسوانی
- شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظمے طہور کا میں وصف سن چکا واعظجگر بسوانی
- عبث ہے شوق لڑکپن میں ظلم ڈھانے کاجوان ہو کے گلا کاٹنا زمانے کاجگر بسوانی
- زمانے ہو گئے امیدوار ہیں ہم لوگستم کشان غم روزگار ہیں ہم لوگParmod Lal Yakta
- حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نےترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نےاختر علی اختر
- کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیاہمیں تو نشر عجب سی وضاحتوں نے کیاChandra Parkash Shad
- ہمارے زخم کا بھرنا بہت ضروری ہےاب اقتدار میں حصہ بہت ضروری ہےDeedar Bastawi
- وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گاتو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گاہجر ناظم علی خان
- مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھایہ ایک چال تھی ان کی یہ اک بہانا تھاہجر ناظم علی خان
- سکھوں کی آس ہے کب سے مگر نہیں آتےمیں وہ درخت ہوں جس پر ثمر نہیں آتےLokesh Kumar Singh
- کسی کی خامیوں کا تذکرہ نہیں کرتےیوں اپنے آپ کو چھوٹا کیا نہیں کرتےMadhu Madhuman
- کبھی ادھر جو سگ کوئے یار آ نکلاگماں ہوا مرے ویرانہ میں ہما نکلامیاں داد خاں سیاح
- نہ کوئی نغمہ ہوں نہ ساز خوش نوا ہوں میںشکست شیشۂ دل کی مگر صدا ہوں میںS. Nooruddin Anwar Bhopali
- کسی بھی در کی سوالی نہیں رہی ہوگیجھکی جو عشق کے در پر جبیں رہی ہوگیTabassum Anwar
- مرا خیال پریشاں ہے میرا گھر تنہانہ جائیے مجھے ایسے میں چھوڑ کر تنہاUma Shankar Shadan Gwaliori
- وفا کے لطف محبت کے خواب مانگے ہےعجیب بات ہے ساقی شراب مانگے ہےUma Shankar Shadan Gwaliori
- سمجھ کے سوچ کے ڈھرے بدل دئے جائیںاب انقلاب کے نسخے بدل دئے جائیںVijay kumar Swarnkar
- یہ سوچ سوچ کے کرتے ہیں خودکشی پتھرکہ کس کے پھیر میں آ کر ہوئی ندی پتھرVijay kumar Swarnkar
- یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتاہمیں تو ہوش ہی دودو پہر نہیں آتاعاشق حسین بزم آفندی
- جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہےلبوں سے نغمہ صل علی نکلتا ہےHafiz Ludhiyanvi
- اسی لیے ہیں یہاں وسوسے بہت سارےمری زبان پہ ہیں ذائقے بہت سارےMadhav Noor
- یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہےبس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہےRaazdan Raaz
- ہے کھیل جاری ازل سے یہ اوج و پستی کاعروج جس کا کبھی تھا زوال ہے اس کاSabiha Khan
- چلو چراغ بجھا کر ذرا سا دیکھیں ہمیہ کائنات کسے ڈھونڈنے نکلتی ہےUmar Farooq
- ہمیں تو ٹوٹی ہوئی کشتیاں نہیں دکھتیںہمارے گھر سے ہی دریا دکھائی دیتا ہےUmar Farooq
- خدا را آ کے مری لو خبر کہاں ہو تممرے حبیب مرے چارہ گر کہاں ہو تمYaseen Zameer
- پھر آگہی سے یقیں کی طرف قدم نکلےگمان و وہم کی جب سرحدوں سے ہم نکلےZafar Adeem
- رموز محبتاثر صہبائی
- بدل بدل کے وہ چولا مکان سے نکلاکسی کا تیر کسی کی کمان سے نکلاKafeel Anwar
- ترے وجود کو بس آن بان میں رکھاکوئی بھی عکس نہ سونے مکان میں رکھاKafeel Anwar