بجھا بجھا سا گل تر دکھائی دیتا ہے
Parvez Anjumبجھا بجھا سا گل تر دکھائی دیتا ہے
عجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے
میں جس کے واسطے پھولوں کا ہار لایا ہوں
اسی کے ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے
یہ شہر شیشہ گراں کو خبر نہیں شاید
ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے
یقین کیسے کروں غیر کی محبت کا
کہ اپنا بھائی ستم گر دکھائی دیتا ہے
قلم اٹھانے کا جس کو ابھی شعور نہیں
وہ آدمی بھی سخنور دکھائی دیتا ہے
نگاہ ڈالی ہے جب سے مرے مسیحا نے
بلندیوں پہ مقدر دکھائی دیتا ہے
تمہاری بزم میں تاریکیاں ہیں کیوں انجمؔ
فلک پہ چاند سا دلبر دکھائی دیتا ہے