یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہے

Raazdan Raaz

یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہے

بس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہے

خدا نے دیکھ کے تاب تجسس انساں

نظر پہ حد سی لگا دی ہے آسماں کیا ہے

گلا کے چھوڑے گا ہر شے کو وقت کا تیزاب

سوائے نور خدا اور جاوداں کیا ہے

بس ایک غیب کی تلوار یہ خدائی ہے

پھر اس کے سامنے فریاد کیا فغاں کیا ہے

غم جہاں کا فسانہ بہت طویل ہے دوست

ہماری ایک شب غم کی داستاں کیا ہے

بچا ہی کیا ہے ترے پاس بک گیا سب کچھ

بڑھا لے رازؔ کہ خالی ہے یہ دکاں کیا ہے