یہ سوچ سوچ کے کرتے ہیں خودکشی پتھر

Vijay kumar Swarnkar

یہ سوچ سوچ کے کرتے ہیں خودکشی پتھر

کہ کس کے پھیر میں آ کر ہوئی ندی پتھر

نظر نواز اجالے کہاں ان آنکھوں میں

جڑے ہوئے ہیں جہاں دو نمائشی پتھر

گناہ کیا ہے سزا کیا ہے اور کیا توبہ

جواب سن کے نہ ہو جائیں آپ بھی پتھر

دبی پڑی ہیں غریبوں کی عرضیاں کب سے

کوئی تو آئے ہٹائے یہ مطلبی پتھر

صدی بدل گئی پھر بھی دکھائی دیتی ہے

الہ آباد کے پتھ پر وہ توڑتی پتھر