کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیا

Chandra Parkash Shad

کبھی ہوا نے کبھی اڑتے پتھروں نے کیا

ہمیں تو نشر عجب سی وضاحتوں نے کیا

تمام منظر شب ڈھیر ہو گیا دل پر

یہ کیا ستم مرے قدموں کی آہٹوں نے کیا

ہر ایک چیز لگی ٹوٹتی سی باہر کی

کہ جو کیا مرے اندر کے منظروں نے کیا

کھلی نہ آنکھ کبھی ایک پل کو صحرا کی

اگرچہ شور بہت اڑتی بستیوں نے کیا

ادھر تو کچھ نہ تھا یوں ہی وہ آتے جاتے رہے

عجب مذاق سفر سے مسافروں نے کیا

میں اپنے آپ سے ڈرنے لگا بھرے گھر میں

یہ مجھ سے کیا مرے اپنے ہی آئنوں نے کیا

کئی طرح سے گھٹایا بڑھایا سایوں کو

مکاں مکاں پہ یہی کام سورجوں نے کیا