مرا خیال پریشاں ہے میرا گھر تنہا
Uma Shankar Shadan Gwalioriمرا خیال پریشاں ہے میرا گھر تنہا
نہ جائیے مجھے ایسے میں چھوڑ کر تنہا
سحر سے شام کے یہ فاصلے نہیں کٹتے
ادھر ہے شام اکیلی ادھر سحر تنہا
قریب رہ کے بھی صدیوں کا فاصلہ ہے ابھی
میں کس قدر ہوں ترے ساتھ کس قدر تنہا
ہمارے ساتھ ہے دنیا ہمارے ساتھ چلیں
جناب خضر نہ بھٹکیں ادھر ادھر تنہا
وہ ایک لمحہ نہیں جو ترے تصور میں
لرز رہا ہے چراغ خیال پر تنہا
ہوا خموش سفینہ نڈھال دل زخمی
کھڑا ہے پانی میں شاداںؔ کمر کمر تنہا