اسی لیے ہیں یہاں وسوسے بہت سارے
Madhav Noorاسی لیے ہیں یہاں وسوسے بہت سارے
مری زبان پہ ہیں ذائقے بہت سارے
بس اک صنم تھا مگر مسئلے بہت سارے
گزشتہ دور میں تھے ولولے بہت سارے
حیات کہنے لگی کچھ نہیں رہا باقی
مگر قضا نے دئے زاویے بہت سارے
میں بن گیا تھا کوئی جو میں کبھی تھا ہی نہیں
نئی قبا نے دئے حوصلے بہت سارے
قبا پہن کے مرے جسم کی کوئی میرا
رفیق لینے لگا فیصلے بہت سارے