وفا کے لطف محبت کے خواب مانگے ہے

Uma Shankar Shadan Gwaliori

وفا کے لطف محبت کے خواب مانگے ہے

عجیب بات ہے ساقی شراب مانگے ہے

ہمیں ستائے یہ دنیا تو کوئی بات نہیں

ہماری بات کا دنیا جواب مانگے ہے

نظام کار گہہ زندگی معاذ اللہ

حساب مانگے ہے اور بے حساب مانگے ہے

وہ چاہتا ہے کہ وہ لفظ میں بیاں کر دوں

فسانۂ غم ماضی کتاب مانگے ہے

یہ ظرف کم نگہی اور یہ زعم دیدہ وری

زمانہ آج تمہیں بے نقاب مانگے ہے

غریب باپ کی بانہوں میں کھیلتا بچہ

کبھی ستارے کبھی آفتاب مانگے ہے

کسے کسے غم منزل سنائیے شاداںؔ

ہر ایک راہ کا پتھر حساب مانگے ہے