نوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہو
Ejaz Asifنوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہو
مثال صوت پریشاں فغاں سے ظاہر ہو
تجھے گماں ہے اگر خود پہ لفظ روشن کا
ردائے شبنم عجز بیاں سے ظاہر ہو
چمک اٹھے مری آنکھوں میں اشک کی صورت
جو آگ دل میں ہے روشن زباں سے ظاہر ہو
کسی بھی سمت سے ابھرے ستارۂ آواز
نہیں یہ قید کہ وہ آسماں سے ظاہر ہو
وہ کائنات کا خالق سہی مگر آصفؔ
یقیں ہے خود پہ اسے تو گماں سے ظاہر ہو