جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہے

Hafiz Ludhiyanvi

جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہے

لبوں سے نغمہ صل علی نکلتا ہے

محبتوں کا عجب شہر ہے مدینہ بھی

ہر ایک شخص جہاں آشنا نکلتا ہے

نگاہ شوق کو ملتا ہے اذن گویائی

خموشیوں میں بھی اک مدعا نکلتا ہے

عجب مرقع دل کش ہے یاد شہر نبی

ہزار رنگ جہاں نعت کا نکلتا ہے

بکھیر دیتا ہے قرطاس پر گہر پارے

قلم سے جب مرے حرف ثنا نکلتا ہے

جناب رحمت عالم کا فیض ہے حافظؔ

ہر ایک شعر سے مضموں نیا نکلتا ہے