گزر نہیں ہے کسی کا تو راستہ کیوں ہے

Daud Naseeb

گزر نہیں ہے کسی کا تو راستہ کیوں ہے

جو راستہ ہے تو محروم نقش پا کیوں ہے

ہر ایک شخص سمجھتا ہے اجنبی پھر بھی

تمہارے گھر کا پتہ مجھ سے پوچھتا کیوں ہے

تمہارا شہر اجالوں کا شہر سنتے تھے

قدم قدم پہ اندھیروں کا سامنا کیوں ہے

وہی سحر ہے وہی شب وہی ہے ہنگامہ

مگر حیات کا منظر اداس سا کیوں ہے

میں اپنے وقت کی تصویر بن گیا تو نہیں

ہر آدمی مجھے اس طرح دیکھتا کیوں ہے

نگاہ جب تری بینائی کھو چکی اپنی

تو زندگی ترے ہاتھوں میں آئنہ کیوں ہے

کسی سے مل کے بچھڑ جانا عمر بھر کو نصیبؔ

ذرا سی بھول کی اتنی بڑی سزا کیوں ہے