کئے ہیں مجھ پہ جو احساں جتا نہیں سکتا

Ejaz Asif

کئے ہیں مجھ پہ جو احساں جتا نہیں سکتا

وہ شخص تو مرا دل بھی دکھا نہیں سکتا

چھپا ہوا ہوں تہ سنگ ایک مدت سے

ہوا کا جھونکا مری سمت آ نہیں سکتا

پرے ہے آج بھی وہ سرحد تصور سے

میں اس کو پوج تو سکتا ہوں پا نہیں سکتا

دکھا رہا ہے وہی موج موج عکس مجھے

وہ تیرا عکس جسے میں بنا نہیں سکتا

میں ایک نغمۂ‌ سادہ مزاج ہوں آصفؔ

قبائے ساز میں خود کو چھپا نہیں سکتا