زمانے ہو گئے امیدوار ہیں ہم لوگ
Parmod Lal Yaktaزمانے ہو گئے امیدوار ہیں ہم لوگ
ستم کشان غم روزگار ہیں ہم لوگ
جنون کام نہ آیا کہ سارے خواب و خیال
الجھ کے رہ گئے جن سے وہ خار ہیں ہم لوگ
جسے تجسس صبر گریز پا کہئے
اسی خلش اسی غم کا شکار ہیں ہم لوگ
شراب تجربۂ تلخ پی چکے ہیں ہم
سنبھل گئے ہیں بہت ہوشیار ہیں ہم لوگ
نہ جانے کب کہاں لے جائے کب کہاں رک جائے
یہ رخش عمر کہ جس پر سوار ہیں ہم لوگ
قسم تسلسل لیل و نہار کی یکتاؔ
ستم کشان غم انتظار ہیں ہم لوگ