شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظ

جگر بسوانی

شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظ

مے طہور کا میں وصف سن چکا واعظ

تری طرح نہیں توڑا کبھی کسی کا دل

جو ہم نے توڑی بھی توبہ تو کیا ہوا واعظ

میں جانتا ہوں حقیقت بہشت و دوزخ کی

خدا کے واسطے باتیں نہ تو بنا واعظ

گناہگار ہیں ہم ذات ہے غفور اس کی

خدا خدا کر ارے تو نہیں خدا واعظ