سمجھ کے سوچ کے ڈھرے بدل دئے جائیں
Vijay kumar Swarnkarسمجھ کے سوچ کے ڈھرے بدل دئے جائیں
اب انقلاب کے نسخے بدل دئے جائیں
سب اپنی اپنی کتابیں سنبھال کر رکھیے
کہیں یہ ہو نہ کہ پنے بدل دئے جائیں
اب ان میں کچھ کھلی آنکھیں دکھائی پڑتی ہیں
پرانے پڑ چکے پردے بدل دئے جائیں
تم آدمی ہو یہ اعلان کیوں نہیں کرتے
انہیں سنک ہے کہ کھونٹے بدل دئے جائیں
مدد کی شرط اگر ہے کہ یہ امیر لگے
تو آؤ لاش کے کپڑے بدل دئے جائیں
اسے بتاؤ کہ سیلاب چار دن کا ہے
ندی ہے ضد پہ کنارے بدل دئے جائیں