ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوں

Ejaz Asif

ہر ایک شے کی حقیقت سے با خبر دیکھوں

میں اپنی خاک میں پنہاں تجھے بھی گر دیکھوں

یہ کیا کہ ہات بڑھاؤں تو سنگ ریزے ملیں

کہیں تو میں بھی دمکتے ہوئے گہر دیکھوں

ہو آنکھ میں کسی چہرے کا ڈوبتا منظر

میں پانیوں میں مقید کسی کا گھر دیکھوں

تمام عمر اسی سائے کی تلاش کروں

کہ جس کو دیکھنا چاہوں تو در بہ در دیکھوں

نظر کے سامنے جب ہو نہ کوئی تیرے سوا

میں تیری سمت نہ دیکھوں تو پھر کدھر دیکھوں

ہے آرزو یہی آصفؔ کہ راہ ظلمت میں

اسے بھی اپنی طرح میں کبھی نڈر دیکھوں