مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں
Laxmi Narayan Farighمری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں
یہ فتنہ میری لحد پر جگائے جاتے ہیں
ضیائے حسن کو درگاہ دل ترستی ہے
چراغ دیر و حرم میں جلائے جاتے ہیں
نہیں ستاتے کسی کو بھی جو زمانے میں
وہی زمانے میں اکثر ستائے جاتے ہیں
ضیائے حسن سے ہوتا ہے جن کا دل معمور
چراغ گور پر ان کی جلائے جاتے ہیں
فسانوں سے نہیں بنتیں حقیقتیں لیکن
حقیقتوں سے فسانے بنائے جاتے ہیں
کہیں غرور تکبر کہیں فتور خودی
ہماری راہ میں رہزن بٹھائے جاتے ہیں
ادب کی محفل رنگیں میں رات دن فارغؔ
مرے فسانے ہی اکثر سنائے جاتے ہیں