Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- شراب حسن سے کچھ ایسے ہم ہوئے مخمورکہ ہوش تک نہ تھا باقی کہاں کا حسن شعورIftikhar Ahamad Siddiqi
- حجاب حسن میں یا حسن بے حجاب میں ہےیہ روشنی کا سفر عکس ماہتاب میں ہےNaeem Saba
- گلہ ہے اپنے مقدر کی بے حسی سے ہمیںاور اس سے بڑھ کے شکایت ہے زندگی سے ہمیںNaeem Saba
- مرے قریب وہ آیا تھا روبرو نہ ہوانظر ملا کے بھی مائل بہ گفتگو نہ ہواNaeem Saba
- وہ دل کشی جو ترے حسن اور جمال میں ہےاسی کا عکس فروزاں مرے خیال میں ہےNaeem Saba
- تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیالگی نہ دل کی تجھے دل لگا کے دیکھ لیاشرف مجددی
- حجاب ظاہر و باطن بھی درمیاں میں نہیںاب امتیاز کوئی میرے جسم و جاں میں نہیںVahshi Kanpuri
- کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرےخدا کسی کو نہ آب آشنائے راز کرےVahshi Kanpuri
- کرو نہ دیر جہاں میں جہاں سے آگے چلویہاں گمان خطر ہے قدم بڑھائے چلوامیر اللہ تسلیم
- کبھی ہمارے لئے تیغ بے نیام کروجو داستاں ہے تمہاری اسے تمام کروHabab Hashmi
- کہاں وہ سیم تناں ہیں کہاں وہ گل بدناںعزیز از دل و جاں ہے حدیث لالہ رخاںHabab Hashmi
- اب انجمن میں وہ یاران غم گسار کہاںنگاہ لطف کہاں ہم کہاں بہار کہاںTahavvur Ali Zaidi
- تجلیاں ہیں کہ ان کا کوئی حساب نہیںنگاہ شوق ہے اور دیکھنے کی تاب نہیںTahavvur Ali Zaidi
- پھرا کسی کا الٰہی کسی سے یار نہ ہوکوئی جہان میں برگشتہ روزگار نہ ہوعیش دہلوی
- قدم قدم پہ حوادث نے رہنمائی کیرواں ہے جادۂ منزل پہ کاروان خیالYaqoob Usmani
- ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھامیں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھاZafar Ghauri
- سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئےہمارے ساتھ میں موسم بھی سب سہانے گئےAah Sambhali
- خمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھاہمارے ذہن میں کچھ اور تھا وصال نہ تھاEhsanul Haq Mazhar
- زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہےجو تم تھے پاس تو سارے جہاں سے دور رہےEhsas Muradabadi
- وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیںکبھی جو تھا وہ اب انداز گلستاں بھی نہیںEhsas Muradabadi
- جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جاتو سو چکا میں فراغت سے بس مزار میں جاممنون نظام الدین
- شب فراق میں رویا کیا سحر کے لئےترس ترس گئیں آہیں مری اثر کے لئےمنشی شیو پرشاد وہبی
- غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہےخزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہےمنشی شیو پرشاد وہبی
- نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاںنہ ہو شباب تو کیفیت شباب کہاںمرزا مائل دہلوی
- دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرےوہ ساتھ غیر کے ہوں حشر میں خدا نہ کرےناصری لکھنوی
- پیو پلاؤ علی الرغم دور جام چلےیہ میکدہ ہے یہاں کس کی روک تھام چلےEjaz Ajmeri
- مزہ تو جب ہے غم عشق آشکار نہ ہوجگر پہ چوٹ لگے اور بے قرار نہ ہوEjaz Ajmeri
- یہ سیم و زر تو ہیں آسائش جہاں کے لیےمجھے ہے غم کی ضرورت سکون جاں کے لیےJagdish Sahay Saxena
- ہمیں سفینۂ ہستی کا رہنما نہ ملاخدا کو ساتھ لیا کوئی ناخدا نہ ملاNabiul Hasan Shamim
- اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیاہزار شیوۂ نو ہیں مری فغاں کے لیےنہال سیوہاروی
- قبول کیجیے انکار کا مقام نہیںیہ جام مے ہے پری وصل کا پیام نہیںنسیم میسوری
- وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیںتمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیںنسیم میسوری
- جنہیں نگاہ اٹھانے میں بھی زمانے لگےوہ جا بجا مری تصویر کیوں سجانے لگےYasmeen Habeeb
- کچھ ایسے جذبۂ تحقیر سے زمانہ ملاکہ اس سے اپنا یہ خوددار دل ذرا نہ ملاZafar Akbarabadi
- ہم اس کے دھیان میں آئیں گے دھیان میں بھی نہ تھایقیں کا ذکر تو کیا ہے گمان میں بھی نہ تھاZafar Akbarabadi
- حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی باتہر ایک بات تری چشم التفات کی باتFaiz Tabassum Tonsvi
- سناتا کیا میں اسے طاقت بیان نہ تھیکچھ ایسی ویسی محبت کی داستان نہ تھیNabi Bakhsh Nayab
- سراب دل سے مسلسل فریب کھا رہا ہوںمیں ایک عمر سے اپنے خلاف جا رہا ہوںNadeem Sirsivi
- شعور عشق ملے روئے دار رقص کروںہیں میرے پاس بہانے ہزار رقص کروںNadeem Sirsivi
- جو چشم شوق کی حالت سے آشکار نہ تھاوہ انتظار بہ عنوان انتظار نہ تھاQadr Oraizi
- کوئی بھی عقدہ کشائے خود آگہی نہ ملامیں اپنے آپ سے بھی آج تک کبھی نہ ملاRabab Rashidi
- وہ اور ہیں جنہیں احساس تیرگی ہے بہتیہاں تو ٹوٹتے لمحوں کی روشنی ہے بہتRabab Rashidi
- یہ تجربہ بھی ہے ہم نے فقط سنا ہی نہیںگمان شوق سے بڑھ کر یقیں ہوا ہی نہیںRabab Rashidi
- جب اپنی ذات کو سمجھا تو کوئی ڈر نہ رہاجہاں میں کوئی پرستار اہل زر نہ رہاRafi Badayuni
- کسی خیال میں کھونے کی جستجو تو کروکسی سے ملنے کی پہلے کچھ آرزو تو کروRafi Badayuni
- مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیںاگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیںرجب علی بیگ سرور
- خیال رکھنا مرا زخم بھر نہ جائے کہیںحوادثات کا دریا اتر نہ جائے کہیںGhamgeen Qureshi
- لب و نظر کو ترے پیار کی ہنسی نہ ملیکرے جو دل میں اجالا وہ روشنی نہ ملیJagjeewan Lal Asthana sahar
- نگاہ و دل کو جلانے کا حوصلہ تو کرواٹھا کے پردے حقیقت کا سامنا تو کروJagjeewan Lal Asthana sahar
- سنبھال قلب و جگر تیغ اٹھا نظر نہ بچاترا گماں یہ غلط ہے کہ کوئی سر نہ بچاKaifi Sanbhali