مرے قریب وہ آیا تھا روبرو نہ ہوا

Naeem Saba

مرے قریب وہ آیا تھا روبرو نہ ہوا

نظر ملا کے بھی مائل بہ گفتگو نہ ہوا

خزاں بہ دوش ہر اک پھول ہے کلی بے رنگ

کف بہار سے گلشن بھی مشک بو نہ ہوا

فضا میں حبس تھا موج ہوا بھی ساکت تھی

تری وفا کا مگر پھول بے نمو نہ ہوا

میں کس کو اپنے لہو کا خراج پیش کروں

مرے لہو سے تو مقتل بھی سرخ رو نا ہوا

پہن لیا ہے سر دار خوں کا پیراہن

ستم تو یہ ہے کہ شامل مرا لہو نہ ہوا

چھلکتا جام تھا ساقی تھا میکدہ بھی تھا

مگر یہ لب کبھی منت کش سبو نہ ہوا