کچھ ایسے جذبۂ تحقیر سے زمانہ ملا
Zafar Akbarabadiکچھ ایسے جذبۂ تحقیر سے زمانہ ملا
کہ اس سے اپنا یہ خوددار دل ذرا نہ ملا
بچھڑ کے رہ گئے خود سے جو گم ہوئے اس میں
ہزار ڈھونڈا مگر اپنا کچھ پتا نہ ملا
وہ شور کار گہہ زندگی میں تھا برپا
کوئی جواب مجھے اپنی بات کا نہ ملا
بلا کی تیز خرامی تھی ہر مسافر میں
عدم کی راہ میں کوئی شکستہ پا نہ ملا
جو لوگ ذات کے جنگل میں رہ گئے گھر کر
انہیں پھر اس سے نکلنے کا راستہ نہ ملا
وہ بات بات کا ٹوٹا ہوا تسلسل تھا
کہ سلسلے سے یہاں کوئی سلسلہ نہ ملا
شریک حال رہی مستقل عطا اس کی
ظفرؔ طلب سے مری کب مجھے سوا نہ ملا