کوئی بھی عقدہ کشائے خود آگہی نہ ملا

Rabab Rashidi

کوئی بھی عقدہ کشائے خود آگہی نہ ملا

میں اپنے آپ سے بھی آج تک کبھی نہ ملا

مشاہدات پہ قدرت نہ تجربات پہ ناز

ہمیں تو کوئی ہنر تجھ سے زندگی نہ ملا

شعور راہبری راہ دیکھتا کب تک

اس آدمی کی جسے ذوق رہروی نہ ملا

دیار شوق میں سب کچھ مجھے نظر آیا

مگر گیا تھا میں جس کے لئے وہی نہ ملا

بڑا عجیب ہے محرومیوں کا رشتہ بھی

کوئی بھی شخص کہیں مجھ کو اجنبی نہ ملا

بتائیں کیا تمہیں اس قافلے کے بارے میں

کہ ہم کو راہ میں جس کا غبار بھی نہ ملا

ربابؔ اپنے ہی چہرے پہ جم گئیں نظریں

جب آئنوں میں کوئی اور عکس ہی نہ ملا