جنہیں نگاہ اٹھانے میں بھی زمانے لگے

Yasmeen Habeeb

جنہیں نگاہ اٹھانے میں بھی زمانے لگے

وہ جا بجا مری تصویر کیوں سجانے لگے

ہوا ہے طے وہ سفر ایک جست میں مجھ سے

کہ جس پہ پاؤں بھی دھرتے تجھے زمانے لگے

ترے بدن کی طبیعت سے واقفیت ہے

میں جان جاؤں اگر مجھ سے تو چھپانے لگے

خدا کرے کہ کہیں تجھ کو تیری فطرت سا

کوئی ملے کبھی پھر میری یاد آنے لگے

یہ کیسا ہجر ہے جس پر گمان وصل کا ہو

تو میرے پاس رہے جب بھی اٹھ کے جانے لگے

یہ دل عجیب سا دل ہے اٹھا کے دیواریں

ترے خیال کے آتے ہی ان کو ڈھانے لگے

تو اپنی عمر کی محرومیاں مجھے دے دے

میں چاہتی ہوں تری روح مسکرانے لگے