تجلیاں ہیں کہ ان کا کوئی حساب نہیں

Tahavvur Ali Zaidi

تجلیاں ہیں کہ ان کا کوئی حساب نہیں

نگاہ شوق ہے اور دیکھنے کی تاب نہیں

جنون عشق میں اہل طلب سے ہوتا ہے

وہ اک گناہ جو مستوجب عذاب نہیں

جہاں پہ ذہن ہی مفلوج ہو کے رہ جائے

اسے کچھ اور ہی کہئے وہ انقلاب نہیں

سمجھنا چاہیں جسے اور سمجھ میں آ نہ سکے

تو پھر وہ زندگی کیا ہے اگر سراب نہیں

کرم کی پھر بھی توقع تو ہے مجھے اس سے

یہ اور بات دعا مری مستجاب نہیں

اسے تو بزم ہی کہنا گناہ ہے زیدیؔ

وہ بزم جس میں کہ ساقی نہیں شراب نہیں