خیال رکھنا مرا زخم بھر نہ جائے کہیں
Ghamgeen Qureshiخیال رکھنا مرا زخم بھر نہ جائے کہیں
حوادثات کا دریا اتر نہ جائے کہیں
اسی سے زندہ ہے احساس آشیانے کا
یہ راکھ تیز ہوا ہے بکھر نہ جائے کہیں
بھٹکتی پھرتی ہے آوارہ در بدر کب سے
شب فراق ہمارے ہی گھر نہ جائے کہیں
جو چل رہا ہے بگولوں کی رہنمائی میں
وہ کاروان محبت ٹھہر نہ جائے کہیں
وہ ظلم کیجے کہ حسرت نہ رہ سکے باقی
سحر سے پہلے ہی غمگینؔ مر نہ جائے کہیں