کسی خیال میں کھونے کی جستجو تو کرو

Rafi Badayuni

کسی خیال میں کھونے کی جستجو تو کرو

کسی سے ملنے کی پہلے کچھ آرزو تو کرو

حریف کس لئے خائف ہیں کیوں وہ بد ظن ہیں

انہیں بلاؤ کبھی ان سے گفتگو تو کرو

رہیں گے راہ میں سنگ گراں نہ دیواریں

عمل کے جذبہ کو تھوڑا سا جنگجو تو کرو

حیات دھوپ بھی ہے بادلوں کا سایہ بھی

وہ کوئی حال ہو جینے کی آرزو تو کرو

خزاں کا دور خزاں دیدہ کیوں بناتے ہو

تم ایسے دور میں کچھ ذکر رنگ و بو تو کرو

تمہاری ذات کے بھی تم سے کچھ تقاضے ہیں

ہوا ہے چاک جو دامن اسے رفو تو کرو

کچھ اور وسعت قلب و نظر ضروری ہے

کچھ اور غم بھی ابھی دل کے روبرو تو کرو

نہ کام آئے تو بہتر ہے جذبۂ نفرت

جو کام لینا ہے جذبہ کو نیک خو تو کرو