مزہ تو جب ہے غم عشق آشکار نہ ہو
Ejaz Ajmeriمزہ تو جب ہے غم عشق آشکار نہ ہو
جگر پہ چوٹ لگے اور بے قرار نہ ہو
یہ دل پسند نہ کر دیکھ داغدار نہ ہو
اسے نہ توڑ محبت کی یادگار نہ ہو
ذرا سنبھل کے مرے حال دل کو سنیے گا
مری زباں کہیں شمشیر آبدار نہ ہو
ہوئے ہیں میری طرف سے وہ بد گماں ایسے
میں دل بھی چیر کے رکھ دوں تو اعتبار نہ ہو
خفا نہ ہو تو بتا دوں وہ راز کی باتیں
کچھ اور یاد دلا دوں جو ناگوار نہ ہو
ہوا ہوں گم تو زمانہ تلاش کرتا ہے
رہوں شریک تو میرا کوئی شمار نہ ہو
پڑا ہوا ہے ترے در پہ اس لئے اعجازؔ
کہیں تلاش کی زحمت نہ ہو پکار نہ ہو