وہ اور ہیں جنہیں احساس تیرگی ہے بہت

Rabab Rashidi

وہ اور ہیں جنہیں احساس تیرگی ہے بہت

یہاں تو ٹوٹتے لمحوں کی روشنی ہے بہت

ہمیں بھی کر دیا شامل انہیں میں لوگوں نے

کہ جن کی فکر و نظر میں شکستگی ہے بہت

کہاں چلے گئے جاں داد گان شوق و وفا

ہمارے ہوتے ہوئے بھی یہاں کمی ہے بہت

وہ اک خلش جو تری یاد سے قریب بھی ہے

تمام عمر کو میرے لئے وہی ہے بہت

ذرا سی دیر ہی مل کر بچھڑنے والوں کو

خیال ذات ہے کم پاس تشنگی ہے بہت

تجھے خبر بھی ہے راتوں کو جاگنے والے

مزاج میری بھی آنکھوں کا شبنمی ہے بہت

اسی سبب سے میں اکثر ادھر نہیں جاتا

تمہارے بارے میں اک راہ پوچھتی ہے بہت

میں اپنے پیرہن تار تار کے قرباں

کہ سنگ و خشت کی بارش میں تو یہی ہے بہت

ربابؔ خود کو ہی فکر و نظر میں رکھتے ہوئے

یہاں سے گزرو کہ ہر سمت بے رخی ہے بہت