پیو پلاؤ علی الرغم دور جام چلے

Ejaz Ajmeri

پیو پلاؤ علی الرغم دور جام چلے

یہ میکدہ ہے یہاں کس کی روک تھام چلے

وہاں رہو کہ جہاں ہوش ہی نہیں آئے

وہاں چلو کہ جہاں بے خودی سے کام چلے

نگاہ ملتے ہی رخ پر نقاب ڈال لیا

وہ صبح کو بھی تو میری بنا کے شام چلے

شب فراق وہ اشکوں نے روشنی بخشی

اندھیری رات میں تاروں سے جیسے کام چلے

فضائیں مست ہوئیں لی جو اس نے انگڑائی

پڑا جو آنکھوں کا پرتو ذرا تو جام چلے