یہ تجربہ بھی ہے ہم نے فقط سنا ہی نہیں
Rabab Rashidiیہ تجربہ بھی ہے ہم نے فقط سنا ہی نہیں
گمان شوق سے بڑھ کر یقیں ہوا ہی نہیں
ہوا ہے تیز تو ہو بادباں کھلے ہی رہیں
خدا بھی ہے مرے ہم راہ ناخدا ہی نہیں
یہ اور بات اندھیرے ہیں میری آنکھوں میں
چراغ دل تو کسی دور میں بجھا ہی نہیں
چمکنے والے ستارے بہت غنیمت ہیں
یہ غم گسار بھی ہیں درد آشنا ہی نہیں
ہم ان کی بات کو پھر آج معتبر جانیں
کہ جی بہلنے کا اب اور راستہ ہی نہیں
بلندیوں ہی پہ اکثر ہمیں نظر آیا
مگر وہ شخص کبھی شہر میں ملا ہی نہیں
فضا میں کتنے خیالوں کی گرد اڑتی ہے
ربابؔ اب کوئی یہ بات سوچتا ہی نہیں