جب اپنی ذات کو سمجھا تو کوئی ڈر نہ رہا

Rafi Badayuni

جب اپنی ذات کو سمجھا تو کوئی ڈر نہ رہا

جہاں میں کوئی پرستار اہل زر نہ رہا

سڑک کے کانٹے کہ جن پر لہو کے چھینٹے ہیں

بتا رہے ہیں کہ اک شخص رات گھر نہ رہا

بدلتی قدروں میں خون جگر سے نامۂ شوق

یہ خاص طرز نگارش بھی معتبر نہ رہا

نگاہ ناز ہے مایوس کس طرف جائے

وہ اہل دل نہ رہے حلقۂ اثر نہ رہا

خوشی کے لمحوں سے کیف دوام کیا ملتا

وہ رقص جام بھی دیکھا جو رات بھر نہ رہا

لچک تھی جن میں وہ پودے تو اب بھی باقی ہیں

ہوا کی زد پہ جو آیا وہی شجر نہ رہا

ذرا سی دیر میں منزل کو پا لیا اس نے

وہ جس کے سر پہ کہیں سایۂ شجر نہ رہا

خرد کا دل سے تعلق نہ کوئی رشتہ ہے

وہ ہم خیال بھی کب تھا جو ہم سفر نہ رہا