وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیں

Ehsas Muradabadi

وہ درد دل بھی نہیں چشم خوں فشاں بھی نہیں

کبھی جو تھا وہ اب انداز گلستاں بھی نہیں

علاج درد محبت تو کر نہیں سکتے

تمہارے قبضے میں کیا مرگ ناگہاں بھی نہیں

وہ اس مقام سے گزرے ہیں دل یہ کہتا ہے

جھکا ہے سر کہ جہاں کوئی آستاں بھی نہیں

اسی چمن میں کئی بار شعلے بھڑکے ہیں

مری نوا کا کوئی اب مزاج داں بھی نہیں

سکوت کتنے مراحل کے بعد آتا ہے

وہ مطمئن ہیں مرے لب پہ اب فغاں بھی نہیں

یہ اور بات قفس میں گزار دوں دن رات

مرا مقام تو ورنہ یہ گلستاں بھی نہیں

شب فراق میں اندیشۂ سحر کیسا

یہ وہ زمیں ہے جہاں کوئی آسماں بھی نہیں