خمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھا
Ehsanul Haq Mazharخمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھا
ہمارے ذہن میں کچھ اور تھا وصال نہ تھا
تری جدائی میں مہتاب دیکھتے ہم کیا
ہمارا مسئلہ تو تھا ترا جمال نہ تھا
پھر ایک دن اسے سب لوگ دیکھنے پہنچے
پلٹ کے آئے تو لب پر کوئی سوال نہ تھا
کمال یہ ہے ترے ہجر میں سلامت ہوں
ترے فراق میں مرنا کوئی کمال نہ تھا
غموں کے وہم میں گزری ہے زندگی ساری
ملال کرتے رہے گو کوئی ملال نہ تھا
جو تیرا حال ہے اس سے تو صاف لگتا ہے
ہمارے بعد کسی کو ترا خیال نہ تھا