حجاب ظاہر و باطن بھی درمیاں میں نہیں
Vahshi Kanpuriحجاب ظاہر و باطن بھی درمیاں میں نہیں
اب امتیاز کوئی میرے جسم و جاں میں نہیں
بھری بہار میں اب کے یہ ماجرا کیا ہے
کہ جنبش آج کوئی شاخ آشیاں میں نہیں
نظر فریب نہ ہو سحر رنگ و بو تو یہاں
وہ کیا بہار ہے جو پردۂ خزاں میں نہیں
مسافران عدم کا نشاں کہاں ڈھونڈیں
کہیں غبار بھی اس راہ کارواں میں نہیں
نظر سے وحشیٔؔ خستہ کے دیکھیے تو یہاں
سوائے دشت کے کچھ اور گلستاں میں نہیں